بند ہی رہنا تھا اس کے دل کا دروازہ کہ ، ہم
کھولتے تھے خود ہی اس جانب جدھر کھلتا نہیں
Related posts
-
راحت اندوری
مزہ چکھا کے ہی مانا ہوں میں بھی دنیا کو سمجھ رہی تھی کہ ایسے ہی... -
شمشیر حیدر
کِھلا ہوا بھی یہاں دیکھتی بہار مجھے مگر ملا نہیں ماحول سازگار مجھے -
قمر رضا شہزاد
کوئی بھی کام نہ دل سے کبھی کیا شہزاد یہاں تو ہم نے محبت بھی اختیاری...
