بند ہی رہنا تھا اس کے دل کا دروازہ کہ ، ہم
کھولتے تھے خود ہی اس جانب جدھر کھلتا نہیں
Related posts
-
قتیل شفائی
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا -
قتیل شفائی
آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر... -
قتیل شفائی
پڑ گئی پاؤں میں تقدیر کی زنجیر تو کیا ہم تو اس کو بھی تری زلف...
